دوا فروش

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - دوا بیچنے والا، پنساری، عطار۔ "دوسری جنگ عظیم کے آغاز تک دوا فروشوں کے ہاں قابل فروخت دواؤں کی تعداد بہت کم تھی۔"      ( ١٩٨٦ء، ہمدرد صحت، کراچی، جون، ١ )

اشتقاق

عربی زبان سے مشتق اسم 'دوا' کے ساتھ فارسی مصدر 'فروختن' سے صیغہ امر 'فروش' بطور لاحقۂ فاعلی لگانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے اور تحریراً ١٨٨٨ء سے "صنم خانۂ عشق" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - دوا بیچنے والا، پنساری، عطار۔ "دوسری جنگ عظیم کے آغاز تک دوا فروشوں کے ہاں قابل فروخت دواؤں کی تعداد بہت کم تھی۔"      ( ١٩٨٦ء، ہمدرد صحت، کراچی، جون، ١ )

جنس: مذکر